10 ستمبر 2026 - 18:27
امریکی تھنک ٹینک: عراق سے امریکی فوجی انخلا ایران اور مزاحمتی گروہوں کی بڑی کامیابی

ایک امریکی تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عراق سے امریکی فوجی انخلا کا عمل اپنے اختتام کے قریب ہے اور آخری امریکی فوجی 30 ستمبر کو عراق سے نکل جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق یہ انخلا عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ ہوگا اور ایران و مزاحمتی گروہوں کے لیے ایک اہم کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اٹلانٹک کونسل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’آپریشن عزمِ راسخ‘‘ اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے اور آخری امریکی فوجی 30 ستمبر کو عراق سے نکل جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی فوجیوں کا انخلا عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے باب کو بند کر دے گا، جس کا آغاز 2003 میں عراق پر امریکی حملے سے ہوا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی اتحاد کے فوجی مشن کے خاتمے اور امریکی فوجیوں کے عراق سے انخلا کے ساتھ اس ملک میں دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط امریکی فوجی مداخلت کا بھی اختتام ہو جائے گا۔

2003 کے حملے کے بعد سے عراق میں امریکی فوجی موجودگی واشنگٹن اور بغداد کے تعلقات کی ایک اہم خصوصیت رہی ہے، تاہم اس موجودگی نے امریکی فوجیوں کو مزاحمتی گروہوں کا ہدف بنا دیا تھا اور عراق کے شیعہ سیاسی رہنماؤں کے لیے بھی یہ ایک مسلسل مسئلہ بنی ہوئی تھی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں کا انخلا مزاحمتی گروہوں اور عراقی حکومت کا بنیادی مطالبہ رہا ہے۔ یہ انخلا ٹرمپ حکومت کی مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلت کم کرنے کی ترجیح کو بھی پورا کرتا ہے۔ عراق کی جنگ ان جنگوں کی ایک نمایاں مثال ہے جنہیں ’’لامتناہی جنگیں‘‘ کہا جاتا ہے اور جنہیں ٹرمپ سمیت زیادہ تر امریکی ایک غلطی سمجھتے ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ عراق کی خبریں اب امریکی میڈیا کی سرخیوں میں پہلے جیسی نمایاں نہیں رہیں، تاہم عراق میں امریکی فوجی موجودگی کی میراث نے مشرق وسطیٰ اور فوجی طاقت کے استعمال کے حوالے سے امریکی سوچ کو تشکیل دیا ہے اور آئندہ بھی اس پر اثرانداز ہوتی رہے گی۔

اٹلانٹک کونسل کے مشرق وسطیٰ پروگرام میں اسکوکرافت مڈل ایسٹ سیکیورٹی انیشی ایٹو کی محقق اور 2022 سے 2024 تک عراق میں سابق امریکی سفیر الینا ایل رومانوفسکی نے رپورٹ میں کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ’’آپریشن عزمِ راسخ‘‘ کا مقصد کبھی ایران نہیں تھا، لیکن ایران کے لیے یہ کارروائی گزشتہ کئی دہائیوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جاری امریکی خطرے کی ایک اور شکل تھی۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً پانچ دہائیوں سے ایران کی سلامتی کی پالیسی میں خطے میں امریکی موجودگی کم کرنا اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ اس پس منظر میں ’’آپریشن عزمِ راسخ‘‘ کا خاتمہ مزاحمتی گروہوں اور ایران کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha